کمٹہ:03/ستمبر (ایس اؤنیوز) ملک کی آزادی سے پہلے دنیا بھر کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا ونلی ہیڈبندر اب روبہ زوال ہے۔ اسی ونلی ہیڈ بندرگاہ سے سات سمندر پار لندن وغیرہ کو بیاڈگی کی مرچی اور کپاس بر آمد کی جاتی تھی جس کا واضح ثبوت آج بھی لندن میں کمٹہ اسٹریٹ کے نام سے ایک علاقہ موسوم ہے۔ ایسے تاریخی بندرگاہ کی عمارت کو ڈھا کر یہاں ہوٹل شروع کئے جانے کی اطلاعات ہیں جس پر عوام اعتراض کررہے ہیں۔
زوال پذیر ی کے مرحلے سے گزررہی عمارت کو محکمہ سیاحت نے قانون کی ان دیکھی کرتےہوئے منہدم کردیا ہے۔ مرکزی حکومت کے محکمہ کسٹم کی ملکیت والی اس قدیم عمارت کو بغیر منظوری کے زمین بوس کر کے ترقی دینے کے اقدام پر اعتراض جتایا جارہاہے۔ محکمہ کسٹم نے محکمہ سیاحت سے ٹھیکہ لئے ٹھیکدارپر مقدمہ درج کر نے کے بعد عمارت کی موجودہ حالت کو برقرار رکھنے کمٹہ عدالت سے حکم التوا(اسٹے آرڈر) لایا ہے۔
1856میں جب انگریزوں کی حکومت تھی ونلی ہیڈ بندر ملک و بیرون ملک کے درمیان رابطہ کا اہم ذریعہ اور وسیلہ تھا، خاص کر تجارتی نقطہ نظر سے اس کی بڑی اہمیت تھی ، اس زمانے میں آج بھی اپنی تیزی کے لئے مشہور بیاڈگی کی مرچی ، کپاس ،کمٹہ ۔ہندیگون کی پیاز،کمٹہ کی مونگ پھلی، دھان ، خصوصاً گوشت، مچھلی ، سامبر کے مسالے یہیں سے بر آمد ہوا کرتے تھے۔ مصر، امریکہ ، آسٹریلیا، برازیل،جیسے ممالک کی اشیاء جہازوں کے ذریعے در آمد کئے جانے کی بات کہی جاتی ہے۔یہ بھی کہا جاتاہے کہ اس زمانے میں انگریز ونلی بندرگاہ پر ہی قیام کیا کرتے تھے۔ انگریززمانے کی 2عمارتوں ( لائٹ ہاؤس) میں ہتھیار اور بندوق کی گولیاں ذخیرہ کی جاتی تھیں، اور ایک عمارت میں انگریز افسران کا دفتر تھا۔ پہاڑ کی چوٹی پر واقع ایک چھپر نگرانی کا مرکز تھا۔ جہاں سے سورج کے طلوع و غروب کامنظر بہت ہی حسین نظر آتا تھا۔
اور جب ملک میں آزادی کی جنگ جاری ہوئی تو اس وقت مجاہدین کے لئے یہ بندر خاص اہمیت کا حامل تھا۔ ایسا بھی کہاجاتاہے کہ مہاتما گاندھی نے اسی ونلی بندرگاہ سے اپنا نمک کا ستیہ گرہ شروع کیا تھا جس کی یاد میں رتھ روڈ پر گاندھی چوک ہے۔ جب انگریز چلے گئے ، بندرگاہ سے جوڑنے کے لئے کوئی مناسب سڑک نہیں رہی تو یہ بندرگاہ تنہائی کا شکار ہوگیا۔